152

مائنس نواز اور زرداری

آج انتیس اگست دو ہزار سترہ ہے، آصف علی زرداری کُل چودہ کیسز میں بری ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، ایف ایٹ میں واقع بلاول ہاوس میں آج معمول سے زیادہ صحافیوں کا تانتا لگا ہوا ہے، ہال میں بیٹھنے کیلئے کوئی نشست خالی نہ تھی، حامد میر جنہیں خاص طور پر آج مدعو کیا گیا تھا وہ بھی دوسرے صحافی کیساتھ ایک کرسی پر بیٹھنے پر مجبور تھے ، آصف زرداری جن کا عوام میں آج بھی تاثر کرپٹ اور مسٹر ٹن پرسنٹ کا ہے وہ نیب کے تمام کرپشن کے کیسز میں بری ہوگئے تھے، زرداری صاحب خود اعتمادی سے بول رہے تھے کہ جو لوگ کہتے تھے ہم نے سوئس بنکوں میں پیسا رکھا، سونے کے بھرے ٹرک ہمارے پاس ہیں وہ لوگ آج کہاں ہیں؟ آج مجھے بری کردیا گیا، کاش آج بی بی زندہ ہوتیں تو آج بڑی خوش ہوتیں، صحافیوں نے ڈیل کے بارے میں بھی پوچھا، زرداری صاحب مسکراتے ہوئے ٹالتے رہے، ان دنوں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار ٹی وی اسکرین کی زینت بن رہے تھے، اٹھائیس جولائی کے فیصلے میں نوازشریف بھی نا اہل ہوگئے تھے، زرداری صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا اب مائنس نواز اور مائنس زرداری فارمولا لاگو کیا جارہا ہے، جس پر آصف زرداری بولے کہ موجودہ چیف جسٹس(ثاقب نثار) عقل مند آدمی ہیں وہ جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگائیں گے۔

دو برس آگے کو چلتے ہیں ، آج سال 2019 کے جون کی سخت گرمی ہے، نواز شریف اور آصف زرداری دونوں حوالات میں ہیں، نواز شریف کو لگ بھگ ایک دہائی کیلئےمائنس کردیا گیا ہے، وہ ستر برس کے ہونے والے ہیں، اسی برس میں حالات و واقعات بدل جائیں گے، لوگوں کی سوچ بھی تبدیل ہو جائے گی، اسی برس میں نواز شریف پھر سے سیاست نہ کر پائیںگے، آصف علی زرداری کو نیب کی گرفتاری کے بعد پہلی باراحتساب عدالت پیش کیا گیا، میں نے آصف زرداری سے کمرہ عدالت میں پوچھا کہ “جس طرح نواز شریف کو پارلیمنٹ سے آؤٹ کردیا گیا، کیا اب وہی فارمولا آپ پر اپلائی کیا جارہا ہے” یعنی مائنس نواز اینڈ زرداری ہو نے جارہا ہے؟ آصف زرداری نے جواباً کہا” فرق کیا پڑے گا ؟میں نہیں ہونگا تو بلاول ہوگا، بلاول نہیں ہوگا تو آصفہ ہوگی”۔ زرداری صاحب سے ہم صحافی گفت و شنید کر رہے تھے، زرداری صاحب کمرہ عدالت میں سگریٹ کے کش بھی سلگا رہے تھے، کمرہ عدالت میں مدہوشی سے انگڑائیاں لیتا ہوا سگریٹ کا دھواں میں شاید پہلی بار دیکھ رہا تھا، ہمارے ایک دوست نے دبے الفاظ میں ان سے کمرہ عدالت میں سگریٹ سلگانے ، دھواں اڑانے کے بارے میں پوچھا تو آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی جج صاحب نہیں ہیں لہذا یہ صرف کمرہ ہے، جب جج آجائیں گے تو یہ پھر عدالت بنے گی۔

آصف زرداری کو رخسانہ بنگش نے کال ملا کردی اور وہ آصفہ بھٹو سے موبائل پر خوش گپیوں میں مصروف تھے، تھوڑی ہی دیر گزری کہ شریف خاندان کے ایک اور سپوت حمزہ شہباز کو بھی نیب نے دھر لیا، آصف زرداری کو بتایا تو انہوں نے نیب کی اس گرفتاری کی مذمت کی مگر جب کچھ دیر بعد الطاف حسین کی گرفتاری کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں ، میں نے سابق صدر سے کہا کہ تمام میڈیا یہ خبر چلا رہا ہے، مگر زرداری صاحب سیف سائیڈ اپناتے ہوئے دوبارہ بولے مجھے کنفرم نہیں ہے۔

آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد اُنکا کہا گیا ایک جملہ دوبارہ عوام میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے اور وہ ہے کہ ”چیئرمین نیب کی کیا مجال ہے، اس کی کیا حیثیت ہے” ۔ ہمارے ایک دوست صحافی نے آصف زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر پوچھا کہ آپ تو کہا کرتے تھے کہ چیئرمین نیب کی کیا مجال ہے مگر آج نیب نے ہی آپ کو گرفتار کر رکھا ہے تو سابق صدر آصف زرداری نے جواب دیا ”میں اب بھی کہتا ہوں چیئرمین نیب کی کیا مجال ہے یہ سب تو سرکار کروا رہی ہے” ، ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ نیب آزاد اور خود مختار ادارہ ہے تو دوسری جانب اپوزیشن اس کو حکومت کا آلہ کار قرار دے رہی ہے. اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو احتساب کیسز پر بالکل سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے لیکن اپوزیشن جس سلیکٹڈ احتساب کا شکوہ کر رہی ہے اور جس طرح صرف اپوزیشن رہنماؤں کی ہی گرفتاریاں ہورہی ہیں وہ اس تاثر کو تقویت دے رہی ہیں،اس کے ازالے کیلئے حکومت کواقدامات ضرور کرنے چاہیے تاکہ یکطرفہ احتساب کی آوازوں کی گونج کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان میں جب سیاستدان گرفتار ہوجائیں تو ہمدردی کے ووٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔ آصف زرداری نے بھی تیسری دنیا کے ملکوں میں گرفتاری کو سیاست کا حسن قرار دے دیا ، آصف زرداری جس نشست پر احتساب عدالت میں براجمان تھے، اس نشست پر اب سے کچھ ماہ قبل سابق وزیراعظم نواز شریف بھی تشریف فرما رہے اور آج وہ بطور مجرم حوالات میں بند ہیں ۔

نواز شریف کیخلاف تین کیسز تھے جن میں سے دو میں ان کی بلی چڑھائی گئی، آصف زرداری پر نیب میں آٹھ کیسز چل رہے ہیں، دیکھتے ہیں ان کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔ آصف زرداری میں باقی سیاستدانوں سے بڑھ کر ایک خوبی ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ فیصلے خلاف آنے پر عدلیہ پر لعن طعن نہیں کرتے، جو بھی فیصلہ ہو اسے تسلیم کرتے ہیں۔ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ جب میرے خلاف کیسز کھل جائیں تو عدلیہ کے ساتھ چلتا رہتا ہوں جو کہ ان کی عملی سیاست کا منہ بو لتا ثبوت ہے. آصف زرداری پندرہ سال کی طویل مدت تک جیل نہ گئے، ان کو خوب اعتماد تھا کہ ان کیسز سے بھی وہ جیل نہ جائیں گے کیونکہ ان کے خیال میں مقتدر طبقے کو ابھی ان کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو سے بھی پی ٹی ایم کے حق میں بیانات د لوائے جارہے تھے جس سے آصف زرداری مقتدر طبقے کو یہ باور کرا رہے تھے کہ پی ٹی ایم کا مسئلہ بھی میرے ذریعے حل ہو سکتا ہے مگر فیصلہ سازوں کو اس بار آصف زرداری منظور نہ تھے، وہ یہ چھوٹے مسئلے خود ہی ٹیکل کر سکتے تھے۔

پس زرداری کو اس بار بازی ہارنا پڑی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر دو میں بیٹھے آصف زرداری کے چہرے کے تاثرات مجھے یاد ہیں، اندر سے غمگین مگر چہرے پر وہی روایتی مسکان، جب فیصلہ محفوظ ہوا تو پریشانی ان کے چہرے پر نمودار ہونا شروع ہوئی، ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ملزم کا کمرہ عدالت میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے، آصف زرداری بار روم گئے تاکہ باقی کیسز نمٹنے کے بعد کمرہ عدالت واپس آجائیں ، بار روم میں ان کو فیصلے سے پہلے ریڈ سگنل دیا گیا جس کے بعد وہ پریشانی کے عالم میں فوراً سے پہلے ہائی کورٹ سے چلتے بنے، پھر وکلا سے مشاورت کے بعد اپنے گھر سے نیب کو گرفتاری دے دی. آصف زرداری نیب راولپنڈی کے حوالات میں یہ ضرور سوچ رہے ہونگے کہ میں تو مقتدر طبقے کے ساتھ چلنے کا حامی تھا مگر میری ضرورت اب کیوں نہیں محسوس ہورہی۔

یوں تو ایک دوسرے پر بنائے گئے کیسز شریف اور زرداری خاندان بھگت رہے ہیں ، مگر اب ایک دوسرے کے منہ کو دیکھ کر اکٹھے بھی ہورہے ہیں۔ اندر ہی اندر سےایک دوسرے کو برا بھلا بھی کہتے ہیں، ایک سوچتا ہے کہ بلوچستان میں ہماری حکومت نہ گراتے، سینٹ میں ہمارے ساتھ چلتے، شہباز شریف کو بھی تو تم وزیر اعظم کیلئے ووٹ نہیں ڈال رہے تھے تو دوسرا کہتا ہے کہ جعلی اکاونٹس کیسز ہم پر نہ کھلوائے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتھی، شاید سیاست میں کوئی چیز بری نہیں سب چلتا ہے بھائی۔۔

The post مائنس نواز اور زرداری appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں