202

انسانوں اور حیوانوں کے لیڈر کا فرق

لیڈر اس وقت کی ہی نہیں بلکہ تمام وقتوں کی اہم ضرورت رہی ہے۔ کیونکہ جب سے انسان نے ہوش سنبھالا ہے اسے ایک ایسے شخص کی ضرورت رہی ہے جو اسے جھوٹا دلاسا دے سکے، بیوقوف بنا سکے ۔ اسے مشکل سے مشکل حالات میں بھی مایوس نہ ہونے دے۔ باتوں میں الجھائے رکھے اور امید کی شمع ہمیشہ جلائے رکھے۔ روٹی ملے نہ ملے ،سر چھپانے کے لئے چاہے غار بھی نہ ملے مگرعوام کے دل میں امید کی کرن ضرور پھوٹتی رہے۔ جھوٹ بھی بولے تو اس انداز سے کہ اس کے ماننے والے اسے سچ ہی جانیں اور اگر اس کے دوغلے پن کا پتہ چل بھی جائے تو اس کے پیروکار اتنے مخلص ہوں کہ اس کو بھی وہ حکمت عملی کا نام دیں۔ ہر کمیونٹی کے لئے ایسا لیڈر اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانوں کے اس جم غفیر کے لئے بھی ایک ایسے ہی رہنما یا لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں بے وقوف بنا کر رکھے۔ انہیں مایوسی کی دلدل میں نہ پھنسنے دے۔ صرف سبز باغ نہیں بلکہ نیلے ، پیلے ، سرخ ،سفید غرض ہر رنگ کے باغ دکھائے تاکہ عوام صرف سبز باغ دیکھ کر بوریت کا شکار نہ ہوں۔

دریا ،سمندر ، جنگل اور پہاڑ پر رہنے والے بھی لیڈر کے تابع ہوتے ہیں۔ مخلوق پانی کی ہو ، ہوا میں اڑنے والی ہو ،جنگل کی ہو یا زمینی تمام جگہوں کے لیڈرزمیں ایک خوبی مشترک ہے اور وہ ہے اپنی ہی عوام کو کھانا۔ کبھی اس کے مال کی شکل میں اور کبھی بنفس نفیس انہیں کھا جانا۔ شیر جنگل کا لیڈر کہا جاتا ہے اور وہ اپنی خونخوارگی اور قوت شکار کے بل بوتے پر اپنی اس کرسی پر براجمان ہے ۔ اسی طرح شارک مچھلی پانی کی مخلوق پر حاوی ہے۔ اس سے بھی کوئی چھوٹی مچھلی بچ نہیں پاتی۔ شاہیں پرندوں کا بادشاہ ہے اور وہ پرندوں کا ہی شکار کرتا ہے۔ زمینی لیڈروں کی بھی کچھ ایسی ہی خدوخال ہیں۔ ۔جیسے جنگل میں شیر کے علاوہ چیتا،بھیڑیا اور لگڑ بگڑ وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی اپنی سطح کے لیڈر ہی ہوتے ہیں۔اسی طرح زمین پر بھی ایسے ہی کئی درجے کے رہنما ہوتے ہیں۔زمینی مخلوق یعنی اولاد آدم کے ہر طبقے اور ہر شعبے میں تمام قسم کے رہنما موجود و مقبول ہیں۔

سب سے کم درجے کا لیڈر کسی ایک یونین کونسل کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جنگل میں یہ لومڑ یا لگڑ بگڑ ہوتا ہے ۔ اس کے ذمے اوپر والے تمام رہنماؤں کی تعریف و توصیف کچھ اس انداز سے کرنا واجب ہوتا ہے کہ لوگ اسے کم اور اس کے لیڈر کو زیادہ چاہیں۔ یہ سب سے بڑا خوشامدی ہوتا ہے اور اسی خوشامد اور چاپلوسی پر ہی اس کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر مختلف پارٹیوں میں رہ کر ان کے لیڈروں کی اچھی طرح خوشامد کرے، ان کے تلوے چاٹنے میں زیرک ہو جائے تو ترقی یا خوشامد کرتے کرتے وزارت تک پہنچ سکتا ہے۔

اس سے نیچے ذرا کم خوشامدی ہوتا ہے جو تحصیل کے درجے کا ہوتا ہے ۔اس کو عام طور پر صرف اوپر والے لوگ ہی جانتے ہیں کیونکہ یہ انہی نے بنانا ہوتا ہے۔ آگے چلیں تو ضلعی رہنما آ جاتا ہے۔ اس کا کام تب بنتا ہے جب یہ اپنے ضلعے کے ایم این اے اور ایم پی اے کی خوشامد اور چاپلوسی میں کمال حاصل کر لیتا ہے ایسے لیڈر کو ضلع کونسل کا چئیرمین یا میئر بنایا جاتا ہے۔ جنگل کے بھالواور بھیڑئے کی سطح کا لیڈر ۔

ان سے اوپر چیتا ہوتا ہے جو بھاگنے میں اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑے لیڈر ببر شیر سے در اصل دور بھاگ رہا ہوتا ہے مگر ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ اسی ببر شیر کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ یہ بیچارہ تو اپنے کھانے کا سامان کرنے کے لئے بھاگتا ہے مگر شیر اسے اپنا پارٹنر یا نما ئندہ سمجھ کر اسے کچھ بھی نہیں کھانے دیتا۔ جب بھی وہ کھانے لگتا ہے شیر پہنچ جاتا ہےاوراس کا حصہ بھی خود ہی کھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پر جنگل اور زمین کے لیڈروں میں عقل سلیم کا فرق صاف نظر آنے لگتا ہے۔ جنگل والے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں مگر زمینی رہنما کمپرومائز کر لیتے ہیں ، سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور اپنا اپنا حصہ بقدر جسہ اور تعلقات وصول کر کے اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں۔

The post انسانوں اور حیوانوں کے لیڈر کا فرق appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں