189

ضمنی انتخاب میں بلے باز کلین بولڈ!

پاکستان کی تاریخ میں عام انتخابات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکومتی جماعت کی کامیابی ایک روایت بن گئی تھی۔عام طور پر عام انتخابات کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں 75 فیصد نشستوں پر کامیابی برسراقتدار جماعت کو ہی ملتی آئی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں اس روایت میں بھی تبدیلی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ 14 اکتوبر کو ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 35نشستوں جس میں 11قومی اور 24صوبائی اسمبلی کی نشستیں شامل ہیں صبح 8سے لیکر شام 5بجے تک پولنگ ہوئی۔ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 11نشستوں میں سے 4تحریک انصاف 4 مسلم لیگ ن ، 2 ق لیگ کے حصے میں آئیں جبکہ ایک سیٹ جے یو آئی کے حصے میں آئی۔

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 35 بنوں سے ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی نے پی ٹی آئی کے نسیم علی شاہ کو شکست دی۔یہ سیٹ چیئرمین تحریک انصاف عمران خا ن نے چھوڑی تھی۔ این اے 124 لاہور سے مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی نے فتح اپنے نام کی یہاں یہ بات اہم ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے حکمراں جماعت کے امیدوار کو 45ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ این اے 131 لاہور سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق بڑے مارجن سے کامیاب ہوئے ۔ یہ نشست بھی عام انتخابات میں عمران خان نے اپنے نام کی تھی اگر مجموعی نتیجے کی بات کی جائے تو کل 35 نشستوں میں سے 15 تحریک انصاف نے اپنے نام کیں جبکہ ن لیگ دوسرے نمبر پر رہی ۔

حکومتی جماعت کی حیثیت سے تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات میں کارکردگی مایوس کن ہے ۔تحریک انصاف کے بلے باز اپنے ہی حلقوں سے کلین بولڈ ہوئے ۔ تحریک انصاف کی ضمنی انتخاب میں کمزور پوزیشن ان کی 50 روزہ کارکردگی کا صلہ نظر آتی ہے ۔ تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے قبل بڑے بڑے دعوے کئے. ملکی معیشت کی موجودہ حالت کے مطابق حکومت ان دعووں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ۔انتخابی مہم کے دوران کہا گیا کہ آئی ایم ایف سے بھیک نہیں مانگی جائے گی جبکہ حکومت نے حال ہی میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ۔اسی طرح مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی جوباتیں کی گئی تھیں وہ بھی خواب ہی نظر آئیں ۔

تحریک انصاف کی حکومت کو درپیش سیاسی مسائل کی اصل وجہ پارٹی میں پروان چڑھتی موروثی سیاست ہے ۔ماضی میں تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کے حمایتی یہ دلیل دیتے رہے کہ اُنہیں اپنے انقلابی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اقتدار حاصل کرنا ہوگا اوراسی مشن کی تکمیل کے لئے مجبوراً انہیں الیکٹ ایبلز اور دیگر ناپسندیدہ سیاسی شخصیات کو پارٹی میں شامل کرنا پڑا۔ اس وقت تحریک انصاف مرکز ،پنجاب اور کے پی میں حاکم ہے جبکہ بلوچستان میں تحریک انصاف حکمراں جماعت کی اتحادی ہے ۔اس صورت حال میں تحریک انصاف کی کوئی ایسی مجبوری نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے انہیں موروثی سیاست کا راستہ اختیار کرنا پڑے ۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی جانب سے شیخ رشید کے بھتیجے ،چوہدری برادران کے بیٹوں کی حمایت کی گئی ۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا۔ پی ایس 87 سے پیپلز پارٹی کے ساجد جوکھیو کامیاب ہوئے جنہوں نے تحریک انصاف کے سردار قادر بخش کو شکست دی ۔آئندہ اتوار کو کراچی میں پاکستان کے نو منتخب صدر عارف علوی اور گورنر عمران اسماعیل کی جانب سے خالی کی گئی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا ۔ کراچی نے تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دیا لیکن ان انتخابات کے بعد کراچی میں تحریک انصاف کی پوزیشن بھی واضح ہوجائے گی ۔اسی طرح ن لیگ کی عوامی مقبولیت میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ جس کی واضح دلیل ن لیگ کی قومی اسمبلی میں 4 نشستوں پر کامیابی ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری سے بھی ن لیگ کی مقبولیت میں کچھ اضافہ ہوا ہے ۔ضمنی انتخابات کے نتائج سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف مطمئن ہیں ،قائدمسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مہنگائی سے ڈسے عوام نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا ۔

بلا شبہ ملکی معیشت کی جو حالت اس وقت ہے اس میں تحریک انصاف کا کوئی کردار نہیں لیکن تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے قبل جو دعوے کئے تھے وہ اب خود حکومت کے لئے مشکل کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔تحریک انصاف کو اپنی پالیسوں میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ٹیکس عام عوام کے بجائے ملک کے امیر طبقے پر لگائے جائیں ۔سی این جی کی قیمت میں اضافے کو واپس لیا جائے جبکہ بڑی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرکے معیشت کی بہتری کے لئے کوشش کی جائے ۔اسی طرح موبائل فونز اور کالز پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو ملک میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے چھوٹے پیمانے پر کئے جانے والے کاروبار یا گھیریلو صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا۔عمران خان کی ٹیم میں شاہد محمود قریشی اور اسد عمر جیسے تجربہ کار لوگ موجود ہیں ۔ان افراد کو دیگر جماعتوں کے ماہرسیاست دانوں کی مدد حاصل کرکے ملک کی بہتری کے لئے کام کرنا ہوگا۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو ضمنی انتخابات کی طرح ہر محاذ پر حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

The post ضمنی انتخاب میں بلے باز کلین بولڈ! appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں