172

لبرل ازم اور تضادات

سنا ہے دنیا میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں جو عجیب کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں اور اس کام کی منطقی دلیلیں گڑھنے میں ہمہ تن مصروف بھی رہتے ہیں۔ چند روز پہلے ایسے ہی افراد کے کارناموں کی فہرست پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کہیں خدا کی خوشنودگی طلب کرنے کے لئے انسانوں کی خونی کشتی کا میلہ تو کہیں حشرات الارض کھانے کا مقامی مذہبی کھیل منعقد کیا جاتا ہے۔ مگر اس فہرست میں جن لوگوں کا سب سے پہلے ذکر ہونا چاہیے تھا ان حضرات کا کہیں شمار تھا ہی نہیں۔ یہی بات اس ناچیز کے لئے حیرانگی کا باعث بنی۔ ہم سب لوگ اس طبقے سے واقف ہیں بلکہ ہم میں سے ہر کوئی نہ صرف واقف بلکہ کسی نہ کسی موقع پر اس طبقے کے لفاظی زہر سے ڈسے ہوئے ہوں گے۔

یہ مخصوص ٹولا ہمارے لبرل حضرات پر مشتمل ہے جن کا کوئی عقیدہ نہیں سوائے اس کے کہ خدا نے اس زمین پر تمام تر علم ان کے سپرد کردیا ہے اور اس ‘نایاب’ و ‘کم یاب‘ علم کے یہ مبلغ و وارث ہیں۔ مجھے ان حضرات میں سے چند کا بغور مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا اور اس اتفاق پر میں اپنی قسمت کو آج تک کوستا ہوں۔ ان چند افراد میں سے اکثر سیاسی پناہ لے کر اپنی منزل مقصود یعنی بیرون ملک جا بیٹھے ہیں جبکہ باقی ماندہ افراد بھی اسی تگ و دو میں ہروقت مصروف پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اچھی طرح اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ صرف ‘شدید تنقید’ سے یہ منزل مقصود نہیں ملے گی۔ انہیں اندازہ ہے کہ اس گوہر نایاب کو حاصل کرنے کے لئے ‘بھونکنا’ پڑتا ہے۔ جو زیادہ بھونکتا ہے اسے ہی سیاسی پناہ ملتی ہے۔

ہر موضوع چاہے وہ سیاسی ہو، غیر سیاسی ہو یا مذہبی ہوسب سے الگ بات کرنا ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ یہ بات کرنے سے پہلے کسی کی پروا نہیں کرتے فقط اپنے سے بڑے لبرل کی ٹائم لائن پر نظر رکھتے ہیں۔ وڈے صاحب کا بیان پڑھتے ہی اس میں کچھ اختراع یا ردوبدل کرنے کے بعد گلا پھاڑ کر بیان دیتے نظر آتے ہیں۔

بھارت میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے فیصلہ سنایا گیا تو جیسے ان حضرات کے لئے عید کا سماں بن گیا۔ ان میں سے ہر ایک نے سوشل میڈیا پر سٹیٹس، ٹویٹس کی بھرمار کردی۔ ایک کے خون نے زیادہ جوش مارا تواس جلالی نے اپنی فیس بک کی ڈی پی ہم جنس پرستوں کو مبارکباد دینے کی خاطر رنگین کرڈالی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ بھائی اتنی خوشی کی کیا وجہ ہے؟ تو چہرے پر خوشی کے تاثرات سجائے ‘منطقی’ دلیل دیتے ہوئے کہنے لگا کہ ‘پیار’ ہر صورت جائز ہے۔

سوال کرنے والا بے چارہ چہرے پر حیرانگی سجائے ہوئے تھا اس نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا تمہارے ابو، امی یا بہن بھائی بھی ہم جنس پرست ہیں؟بس اس سوال کا پوچھنا تھا کہ لبرل کی ساری لبرل ازم ایک لمحے میں ہوا ہو گئی۔ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ان عجیب الخلقت حضرات کا یہ ماننا ہے کہ یہ دنیا میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور ان کے بقول جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں وہ ظالم کے طرفدار ہوتے ہیں۔ مگر یہ لوگ اس بات کو واضح کرنے سے کنی کتراتے ہیں کہ کیا صرف ان دہشتگردی کے واقعات کو ہی ظلم کہا جاتا ہے جو صرف لندن، پیرس، نیو یارک جیسی جگہوں پر رونما ہوتے ہیں۔ فلسطین ،کشمیر ، یمن اور شام میں ہونے والی دہشتگردی پر نہ جانے کیوں ان کی ٹائم لائنز کسی شمشان گھاٹ کا منظر پیش کرتی ہیں۔ نہ جانے کیوں زبانوں کو تالے لگ جاتے ہیں۔انتہا درجے افسوس کی بات ہے کہ کسی دوسرے کے لبوں سے کشمیر و فلسطین کے حق میں الفاظ سنتے ہی یہ لوگ اس پر ‘مذہبی شدت پسند’ کا لیبل لگادیتے ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جنوری 2015 کے بعد کا عجیب منظر جب ان عاری المنطق حضرات نے ٹویٹر اور دیگر سماجی ویب سائٹس کو ” #jesuischarlie ” جیسے ہیش ٹیگ سے بھرڈالا تھا ۔ان کےپاگل پن کی حد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان میں سے اکثر کو تو اس ہیش ٹیگ کامطلب تک نہیں پتہ تھا۔ جبکہ ہالینڈ میں ہونےوالے کارٹون مقابلوں پر ان کی زبانوں پر جنبش تک نہ آئی۔ اس وقت یہ کومے کی حالت میں چلے گئے۔۔ شائد!

ان کے مابین بھی عجیب قسم کے مقابلے جاری رہتے ہیں مثال کے طور پر انگلش کتب پڑھنے کا مقابلہ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر وہ کتاب جس کے عنوان میں لفظ مذہب درج ہو اور جس کے منصف کا انگلش نام عجیب تر ہو، پڑھ لی جائے۔ اگر پڑھا نہ بھی جائے تو فیس بک یا ٹویٹر پر اس کتاب کا سکرین شاٹ لگا کر’ مائی بے بی’ کے ٹائٹل سے پوسٹ کردی جائے۔ کتاب کا مطالعہ کریں یا نہ کریں کتاب کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا اولین فرائض میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ کتب کے مطالعہ میں آگے آگے رہتے ہیں اور کسی سے بحث کے دوران ان کا علم اونچی بلکہ چیختی آوازوں کے ذریعے سامنے آتا ہے مگر اس آواز میں دلیل کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

ان کے نظریات کی بے ہنگم ‘پختگی’ کا اندازہ اس چھوٹی سی بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کسی اداکارہ یا ماڈل کے کپڑوں پر ہونے والی تنقید کا بڑھ چڑھ کر جواب دیتے ہیں۔ اس اداکارہ کا لباس جتنا چھوٹا ہوتا ہے اتنی ہی بلند و بانگ دلیلیں یہ اس کے حق میں دیتے ہیں جبکہ یہ کسی باپردہ یا حجاب و سکاف اوڑھے کسی لڑکی کو دیکھتے ہیں تو ان کے الفاظ یکایک تلخ و بے لگام ہوجاتے ہیں۔ مذہب، عقائد اور دینی عمل کو ہر ایک کا ذاتی حق اور فعل کا نعرہ لگانے والے حضرات خاتون اول بشریٰ بی بی کے لباس کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔

چند روز قبل دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی بھارت میں ایک اور متنازع فیصلہ سامنے آیا۔ آڈلٹری یا ایکسڑا ماریٹل سیکس کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دے دیا گیا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کا مالک نہیں ہے، بیوی کا حق ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے تعلق قائم کرسکتی ہے۔ اس فیصلے پر بھی لبرل سپوتوں میں کافی خوشی پائی جاتی ہے۔ ان خوشی سے نہال لبرلز میں سے اکثر شادی شدہ اور بال بچے دار ہیں۔ اس جیسے فیصلے پر خوشی منانے سے خود انکے بارے میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی ان سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کرے گا تو غیرت دکھاتے ہوئے ان کی جانب سے جواب آئے گا‘‘اپنی حد میں رہو’’۔اس جواب پر ان سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ حد کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ ہر معاشرے میں مذہبی، سیاسی و دیگر مختلف حوالوں سے حدود کا تعین کردیا گیا ہے۔ یہی تو ہم کہتے ہیں جنائیت بکنے سے پہلے حدود کا لحاظ کریں۔

بھارت تو جیسے ان کے لیے کسی دیوتا کی مانند ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شائد انڈیا کے مد مقابل پاکستانی فوج ہے۔ میں یہاں سول ملٹری معاملات پر لبرل و محب وطنوں کے درمیان ہونے والی بحث کے پیچ و تاب پر گفتگو نہیں کررہا مگر خاص طور بھارت کے معاملے میں ان لبرل کی منافقت واضح طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے۔

حد یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ کسی بین الاقوامی فورم پر بھارت پر کوئی چھوٹا سا الزام بھی لگا دے تو بھارتی حکام سے پہلے یہ مٹھی بھر لوگ بھارتی ترجمان بن بیٹھتے ہیں۔ یہ بھارتی موقف کا اس قدر پرجوش انداز میں دفاع کرتے ہیں کہ خود بھارتی بھی حیران ہوجاتے ہیں۔ کچھ بھارتی تو حیرانگی میں ان لبرل کے شناختی کارڈ دیکھنے کی خواہش بھی کرتے ہیں کہ شائد ان سے کوئی رشتہ نکل آئے۔

پاکستان میں ہمارے مذہبی حضرات کی کارستانیاں بھی کسی سے کم نہیں۔ یہ بات حقیقت ہے۔ اقلیتوں کو مذہبی انتہاپسندی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ یقیناً ظلم ہے۔ مگر اس سنجیدہ موضوع پر بھی یہ لبرل حضرات اپنی جنائیت و منافقت کا پرچار کرنے سے باز نہیں آتے۔جیسا کہ پہلے بیان کرنے کی کوشش کی کہ ان کے نزدیک پاکستان میں سب کچھ سرے سے ہی غلط ہورہا ہے۔ جبکہ بھارت و دیگر ‘سیاسی پناہ’ دینے والے ممالک آئیڈیل ہیں۔پاکستان میں کسی اقلیت کی عبادت گاہ پر حملہ ہوتا ہے (جو کہ ایک ظلم ہے جس کی مذمت و روک تھام ہونی چاہیے) تو اس حملےپر یہ ماتم کناں ہوتے ہیں۔ جبکہ آئیڈیل بھارت میں آئے روز اقلیتوں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے تب ان کی جانب سے ‘ذاتی فعل’ کا پرچار سامنے آجاتا ہے۔

پاکستان میں دو تین سو لوگوں پر مشتمل گروہ کا احتجاج یہ لبرل حضرات اس قدر پرجوش انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا انقلاب آگیا ہے۔ اور چند ہی عرصے بعد ان تین سو لوگوں کے گروہ میں کوئی ماما قدیر جیسا کردار بن جاتا ہے۔ جو ناکام ہونے کے بعد فیس بک پر بھارت سے پاکستان پر حملہ کرنے کی اپیل کرتا نظر آتا ہے۔منافقت کی انتہا یہ ہے کہ اس اپیل کو سننے کے بعد یہ لوگ اس ماما قدیر کو پہچاننے سے بھی انکار کردیتے ہیں۔

ان کے اصولوں میں ایک سادہ سا اصول یہ بھی ہے کہ اگر اپنی تحریر یا کوئی بیان مقامی اور غیر ملکی میڈیا تک پہنچانا مقصود ہےتو تحریر میں پاکستان کے خلاف پورے جلال و طیش کے ساتھ زہر اگلنا لازمی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر انٹرنیشنل فورم پر ایسے ہی بلاگ اورتحاریر جابجا نظر آتی ہیں۔

ان لبرل کی بے شمار عجیب نشانیوں میں سے کچھ کو پڑھنے کے بعد ہر کوئی حیران ضرور ہوتا ہوگا۔ ہم تو کہتے ہیں عجیب افراد کی فہرست بنانے والے افراد ذرا ان لبرلز کا بغور مشاہدہ کریں ۔ مجھے یقین ہے اس مشاہدہ سے وہ جو نئی فہرست مرتب کریںگے وہ لوگوں کے لیے کافی دلچسپ ہوگی۔

The post لبرل ازم اور تضادات appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں