185

“امل” ‘کیلئے ایک قوم بن جائیں…!

عمر عادل کے گھر میں دس برس پہلے ایک پری اتری رحمت بن کر،خوشیاں بن کر ۔ کہتے ہیں ناں کہ جب اللہ کسی سے بہت خوش ہوتے ہیں تو اسے بیٹی عطاء کرتے ہیں ۔ اس بیٹی کو دنیا میں لانے کا سبب مسیحا کے لقب سے مشہور اور ڈاکٹری جیسے انسانی ہمدری پر مبنی مقدس ترین پیشہ سے منسوب افراد بنتے ہیں جو ڈاکٹر بننا اسلیے چاہتے ہیں کہ وہ انسانوں کے دکھ کو سمیٹ سکیں۔ انکے اپنوں کو زندگی دے کر کئی افراد کی زندگیوں میں خوشیاں واپس لاسکیں۔

لیکن یہ کیا ۔۔۔ اگست کی ایک سیاہ رات روشنیوں کےشہر میں پھر کچھ روشنی سے محروم نوجوان اپنی بےلذت خوشی کیلئے اندھیرا پھیلانے کیلئے نکلے اور انہوں نے عمرعادل کے اہلخانہ سے فانی مال و دولت چھیننے کی کوشش کی جسے ناکام بنانے کیلئے شہریوں کی جان و مال کے محافظ بروقت پہنچ گئے، مگر انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئےکار لانے کے بجائے شاید جذبات سے کام لیا اور شہریوں کو لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنانےکیلئے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی لیکن اس بوچھاڑ میں ایک باپ کی شہزادی، ایک ماں کی گڑیا اور ایک بہن کی دوست اس سے جدا ہوگئی۔۔۔۔۔

محافظوں نے تو تحفظ کی کوشش کے باوجود اپنی غیرپیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بناء پر بیٹی کو خون میں نہلادیا ۔ محافظوں سے بیٹی کی حفاظت نہ ہوسکی تو معصوم امل کو گود میں اٹھائے عمرعادل اور انکی اہلیہ اپنے انہی محسنوں کی جانب لیکر بھاگے جن کی بدولت انہیں “امل” ملی تھی اور انکا گھر خوشیوں کا محور بن گیا تھا ۔۔۔ اس امید پر کہ وہ ضرور پھر سے انکی امل انہیں لوٹا دیں گے۔۔۔

لیکن ہائےافسوس! اس بار امید پوری نہ ہوسکی جو امل کی زندگی کا سبب بنے تھے اب وہی امل کی زندگی چھیننے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔۔ امل کی والدہ ایک طرف “امل” کیلئے “امن” کو پکار رہی تھیں مگر “امن” والے “امل” کو امان دینے پر تیار نہ تھےتودوسری طرف امل کے والد امل کی زندگی کیلئے مسیحاوں سے صرف اتنا کہہ رہے تھے کہ کوئی اس مشکل سفر میں میرا ہمسفر بن جائے مگر دلوں کو دھڑکنیں دینے والوں کے دل دھڑکنا بھول گئے تھے اسلئے انہوں نے ابوامل کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔۔۔

امل کے والد جو خود ڈاکٹر نہ تھے امل کی سانسوں کیلئے پھر یہ بھیک مانگنے لگے کہ مجھے چند ایسے کام سکھا دئیے جائیں جس سے میں امل کی سانسوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرتا رہوں مگر بیٹیوں کو اپنی سانس کہنے والوں نے سانس دینے کا طریقہ سکھانے سے بھی انکار کردیا….امن نے امان دینے سے انکارکیا اورمسیحاوں نے سانس دینے سے تو اسی گھڑی امل کی سانسوں کی روانی رک گئی اور یوں باپ کا سکھ، ماں کا چین اور بہن کی مسکراہٹ کا سبب چھن گیا۔۔۔!!

یہ درد بھری داستان کسی اور شہر کی نہیں اسی شہر کی ہے جس نے سب کو اپنی آغوش میں پالا ہے۔ جی ہاں یہ شہر کراچی کی بات ہے اور یہ اسی نیشنل میڈیکل ہاسپٹل میں موجود چند مردہ دلوں کی کارگزاری ہے جن کا دعوی ہے کہ انکا ہاسپٹل شہر کے دل میں موجود بہترین ادارہ ہے۔ جن کا یہ بھی کہنا ہے کہ زندگی کا احترام کیجئے اور یہ اسی امن ایمبولینس کی روداد ہے جن کا کہنا ہے کہ انکی سروس ایشیا کی بہترین اور شہر میں 7دن 24گھنٹے حاضر رہنے والی سروس ہے۔

اگست کے دلسوز سانحہ کی داستان ستمبرکے آخر میں اس وجہ سے تحریرکررہا ہوں کیونکہ اس واقعہ کا علم ہی نہیں تھا۔ یہ تو امل کے والد اور والدہ کا کارنامہ ہے جنہوں نے اپنی بیٹی اپنی خوشیاں کھونے کے بعد سب کی بیٹیوں کیلئے آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ وہ میڈیا ہاوسز میں جارہے ہیں، عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں تاکہ آئندہ کسی بیٹی کےساتھ ایسا رویہ نہ رکھا جائے۔ میں نے امل کے والد عمرعادل بھائی کو پیغام پہنچایا ہے کہ کسی بھی طرح میں آپکے مشن میں آپکا ساتھ دے سکوں تو یہ میری نجات کا ذریعہ ہوگا۔میں نے تو امل اور تمام بیٹیوں اور بہنوں کیلئے آواز اٹھانے کا ارادہ کیا ہے، آئیے آپ بھی اپنے دل میں ارادہ کیجئے کہ ہم ایک بار پھر بیٹی کو انصاف دلانے اور اپنی تمام بہنوں کی جان کے تحفظ کیلئے ایک بار پھر اسی طرح آواز اٹھائیں گے جس طرح ہم نے ایک قوم ایک آواز بن کر معصوم زینب کیلئے آواز اٹھائی تھی۔

The post “امل” ‘کیلئے ایک قوم بن جائیں…! appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں