224

کراچی پھر مشکل میں

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ ماضی میں اس شہر کے حالات بے حد خراب رہے۔ ہر علاقہ کسی نہ کسی کے لئے نو گو ایریا بن چکا تھا۔ ہر علاقے میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت اور قومیت کا زور ہوتا تھا، جہاں جو طاقت میں ہوتا وہ اپنے مخالفین کا وہاں داخلہ بند کردیتا۔ اغوا برائے تاوان،اسٹریٹ کرائمز اورقتل کے واقعات کراچی میں معمول کی بات بن چکے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ کا جن بے قابو ہوچکا تھا ، شہر کی سٹرکوں پر موت کا رقص تھا، فرقہ واریت کی آگ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا جس نے اس شہر سے کئی علم دوست شخصیات اور شفیق لوگوں کو چھین لیا اور کئی گھروں کے چراغ گل کردیئے۔ شہر قائد میں موجود سیاسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر پاکستان مخالف ریاستوں نے کراچی میں واقع اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ملک کے معاشی حب کو نقصان پہنچایا تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے ۔

اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیاسی قائدین اور ریاستی اداروں نے شہر میں موجود بدامنی کو ختم کرنے کی ٹھانی اور پھر قانون نافذکرنے والے اداروں نے کراچی میں آپریشن کا آغاز کردیا۔ آپریشن کے دوران انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑامگرکراچی کے عوام نے اپنے اداروں کا بھرپور ساتھ دیا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی کسی حد تک شہر قائد کو پھر سے روشنی کا شہر بنانے کیلئے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کیا اور پھر اہلیان کراچی نے یہ وقت بھی دیکھا جب کراچی سے لاشیں ملنا بند ہوگئیں اورکوئی بھی کسی بھی علاقے میں آزادی سے جانے کے قابل ہوگیا ۔

کراچی کے عوام ان حالات سے بے حد خوش تھےاور انہوں نے سکون کا سانس لیا ۔ شہر میں کاروباری سرگرمیاں بڑھنے لگیں ۔ ایک بار پھر ملک بھر سے لوگوں نے ملازمت کے حصول کیلئے کراچی کا رخ کرنا شروع کیا،لیکن شاید کراچی کو پھر کسی کی نظر لگ گئی یا انتظامیہ کی لاپرواہی سے ایک بار پھر کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کا جن بے قابو ہوگیا۔گذشتہ برس کراچی میں 27 ہزار 219 شہریوں کو موبائل فون سے محروم کردیا گیا، 23 ہزار 553 شہری اپنی موٹرسائیکلوں سے ہاتھ دھو بیٹھےجبکہ 12 سو 94 شہری اپنی قیمتی کاروں سے محروم کردیے گئے، اسی طرح اغواء برائے تاوان کے دس واقعات رپورٹ کیے گئے۔

2018 میں تقریبا 20ہزار شہریوں کو موبائل فون سے محروم کردیا گیا۔سب سے زیادہ وارداتیں گلشن اقبال ،کورنگی اور سائٹ ایریا میں ہوئیں۔ ایک بار پھر ہر جانب اسٹریٹ کرائمز کا چرچا تھا کہ کراچی میں بچوں کے اغوا کی خبریں بھی سامنے آنے لگ گئیں ۔2018 میں کراچی بچوں کے لیے غیر محفوظ شہر بن گیا اورشہر قائد میں بچوں کے اغواء کی وارداتیں بڑھنے لگیں۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 200 بچوں کو اغوا کیا جاچکا ہے۔ جن میں سے بیشتر بچوں کی عمریں 10 سال سے کم ہیں۔ تقریبا 160 بچوں کو بازیاب بھی کرالیا گیا ہے ۔

کمسن بچوں کے اغوا کے حوالے سے کئی باتیں گردش کر رہی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر یہ با ت بھی گردش کر رہی ہے کہ بچوں کے اغوا کا مقصد جسم کے مختلف اعضا کا حصول ہے ۔اس حوالے سے تاحال کوئی ثبوت نہیں ملا نہ ہی ایسا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔زیادہ گمان یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ بچوں کے اغوا کے پیچھے تاوان کا حصول ہی مقصد ہوگا۔سندھ حکومت کو اس معاملے میں سخت ایکشن لینا ہوگا۔پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے،آئی جی سندھ کلیم امان کو اس مسئلے کے حل کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی ۔آئی جی صاحب کو اس معاملے کی تحقیقات کے لئے بہترین افسران کو تعینات کرنا ہوگا ۔بلا شبہ سندھ پولیس میں ایسے افسران موجود ہیں ۔

یقینی طور پر یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے، اس جانب موجودہ حکومت کو خاص توجہ دینا ہوگی لیکن بچوں کے معاملے میں اہم ذمہ داری والدین،اسکول ،مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کی بھی ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کمسن بچے اسکول سے تنہا گھر واپس آتے ہیں یا والدین کی جانب سے محلے کے کسی بھی بڑے بچے کی ذمہ داری لگا دی جاتی ہے کہ وہ کمسن بچوں کو اسکول سے اپنے ساتھ واپس لے آئے ۔ یہ ایک غیر محفوظ طریقہ کار ہے ۔ یہ بات عام دیکھی گئی ہے کہ بچوں کے اغوا میں آشنا یا خاندان کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں ۔بچوں کو کھیل کود کی غرض سے بھی گلی محلوں میں تنہا بھیج دیا جاتا ہے۔

اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی بچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔سب سے پہلے تو والدین پر لازم ہے کہ بچوں کو تنہا اسکول کالج یا کسی بھی جگہ نہ بھیجیں ۔اگر والدین کے لئے کسی بھی وجہ سے بچوں کو خود اسکول یا ٹیوشن پر لے جانا ممکن نہ ہو تو بچوں کی تربیت اس طرح سے کی جائے کہ کسی بھی ناخوش گوارواقعہ سے نمٹنے کی ان کے اندر قوت موجود ہو۔ بچوں کوبتایا جائے کہ وہ اسکول سے واپسی پر گنجان آباد علاقے کا انتخاب کریں اور گھر واپسی پر اردگرد نظر رکھیں تاکہ کسی بھی مشکوک حرکت کو محسوس کرسکیں. ناواقف شخص کے پاس ہرگز نہ جائیں کو کوئی بھی غیرمتعلقہ شخص کچھ کھانے پینے کے لئے دے تو ہرگز نہ کھائیں۔

والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کو اس بات کا عادی بنائیں کہ وہ بغیر بتائے گھر سے باہر نہ جائیں اور تنہا گھومنے پھرنے سے پرہیز کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو ایک ایسا سسٹم بنانے چاہییے جس کے ذریعے والدین کو یہ اطلاع موصول ہوجائے کہ انکا بچہ اسکول سے نکل چکا ہے اور والدین اس بات کی تصدیق کردیںکہ انکا بچہ اسکول سے بخیرت گھر آچکا ہے۔ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے انتظامیہ سمیت تما م متعلقہ اداروں کو اپنا کرادار ادا کرنا ہوگاتاکہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

The post کراچی پھر مشکل میں appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں