244

!عاطف میاں، پاکستان اور اسلام

سوشل میڈیا پر وائرل طنز و مزاح ا پنی جگہ لیکن ایک کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ہم مذہبی آئین سٹائین ،غیرمسلموں کی بنائی ہوئی پروڈکٹ جیسا کہ لکس صابن اور ہیڈ اینڈ شولڈر شیمپوں سے بدن پاک صاف کرکے، فیس واش سے چہرہ انور دھونے کے بعد نور کی تجلیوں کیلئے فیئر اینڈ لولی کریم میں چہرہ ڈبوکر،سیم سانگ اور آئی فون موبائل ہاتھ میں تھام کر، ٹیوٹا کرولا گاڑی میں بیٹھ کر، شاہانہ ٹائپ محلات میں رہ کر ،سودی نظام کی بنکاری میں شامل ہوکر، انگریزی کیلنڈر کے تحت تنخواہیں وصول کرنے اور فرنگی نظام پارلیمان کے ذریعے الیکشن میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ کورٹ پینٹ پہن کر یہودیوں کی تخلیق سٹیلائٹ چینل اور سوشل میڈیا پر آکر معاشرے کو یہ درس دیتے ہیں کہ کسی غیرمسلم پاکستانی شہریت کے حامل شخص کو اقتصادی مشیر بنانا خدانخواستہ اسلام پر کاری ضرب ہے۔

ان عقل سے عاری نام نہاد مسلمان اور مذہبی انتہاء پسندوں سے کوئی پوچھے کہ سر ظفراللہ خان کون تھے؟ جسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ ظفر اللہ خان مذہبی طور پر احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے خود مرزا غلام احمد قادیانی (ملعون) کے ہاتھ پر ناصرف بیعت کی بلکہ ان کے احمدی خلفاء کے معتمد بھی رہے۔ وہ جماعت احمدیہ کے اہم عہدوں پر فائز رہے تھے اور مذہبی امور پر متعدد کتب کے مصنف بھی، جبکہ وہ تحریک پاکستان کے سرگرم رکن بھی تھے۔ اس کے علاوہ 1935 سے 1941 تک وائسرائے ہند کی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلم اور آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں ۔اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا جسکے بعد واسرائے نے حکومت برطانیہ کو لکھا:

“میری ہدایت پر ظفر اللہ خان نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔ البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہےکہ میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے۔ وائسرائے نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ظفر اللہ خان احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اگر عام مسلمانوں کو یہ پتہ چلا تو ان کی جانب سے تحفظات کا اندیشہ ہے”

یہ منصوبہ پیش کیے جانے کے چند روز بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔ اور محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمیشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کاپاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک احمدیہ مذہب سے تعلق رکھنے والے سر ظفراللہ خان نے مسلم لیگ میں قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ مل کر اہم کردار ادا کیا۔

عمران خان صاحب ۔۔! آپ نے ماہر معاشیات عاطف میاں کو مشیر معاشیات بنا اور پھر ہٹاکر کر انتہائی ناقابل معافی جرم کا ارتقاب کیا یا یوں سمجھ لیجیےکہ “آ بیل مجھے مار” والا کام کرلیاہے کیوں کہ قائد اعظم کی تو اس وقت مجبوری تھی کہ انہوں نے پاکستان بنانا تھا مگر آج کیا مجبوری ہے؟ لہذا آئندہ احتیاط کیجئے گا کیونکہ یہ احمقوں کی جنت ہے ۔ یہاں جعلی ڈگری والا ڈاکٹر اینکر اور اینکر تجزیہ کار جبکہ تجزیہ کار بیک وقت ماہر سیاسیات، نفسیات، معاشیات، اقتصادیات، اسلامیات، زراعت اوراخلاقیات جبکہ فلمی اداکار رمضان پروگرام میں مذہبی اسکالر سمیت نہ جانے کتنی چیزوں پر وسیع وعریض تجربہ رکھتا ہےاورہماری عوام ٹی وی اسکرین پر نظر جمائے لبوں میں واہ واہ ،کیا بات کی ہے کے نعرے لگاتے نہیں تھکتی ۔ خیر ابھی یہ مسئلہ ہی گردش میں تھا کہ خان صاحب نے افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا ایک اور متنازع اعلان کردیا۔ اس لیئے قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچ لو لیکن جب ایک فیصلہ کرلو تو پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔

جس اسلام میں قابلیت کی اہمیت اور اقلیت کے تحفظ بارے درس دیا گیا وہ ملا کا دین نہیں بلکہ حضرت محمدﷺ کا دین ہے ۔جنہوں نے دشمنوں سے پتھر کھا کر بھی بددعا نہیں دی بلکہ انکی آئندہ نسلوں تک کیلئے ہدایت کی دعا کی تھی۔ جس پاکستانی جھنڈے میں اقلیت کی نمائندگی کیلئے سبز رنگ کیساتھ سفید رنگ بھی شامل کیا گیا ہے وہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا ملک تھا نا کہ آج کے مذہبی انتہاء پسندوں کا،جنہوں نے ہمیشہ اقلیت کو نفرت کی نگاہ سے ہی دیکھا ہے۔

اگر برطانیہ میں جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے ، صادق خان جیسا پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان میئر بن جائے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتےکہ ہمارا مسلمان وہاں کا مئیر بن گیا ہے۔ وہاں کی میرٹ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے لیکن جب کوئی پاکستانی شہری اپنی قابلیت کے بل پر،جسکی ہمیں ضروت بھی ہے اپنی خدمات ہمیں پیش کرتا ہے تو ہم چارپائیاں الٹی کرلیتے ہیں محض اس بنا پر کہ وہ غیر مسلم ہے۔ جبکہ یہی شخص سعودی عرب کی ماہر معاشیات کی فہرست جس میں مفتی تقی عثمانی صاحب بھی شامل ہیں کیساتھ دکھائی دیتا ہے۔ سننے میں تو آیا ہے کہ سعودی عرب جیسا اسلامی ملک جہاں اللہ کا گھر بھی ہے اور روزہ رسول بھی ہے کی حکومت باقاعدگی سے عاطف میاں جیسے ماہرین سے بہترین معیشت بارے مشورے لیتی ہے۔ جسکے بدلے انہیں اچھی خاصی رقم ادا کی جاتی ہے مگرشائد انکا ایمان کمزور اور ہمارا زیادہ مضبوط ہو۔۔۔؟

کیونکہ بدقسمتی سے ہم احمقوں کی جنت کے باسی ہیں تو یہاں مذہب، فرقہ واریت ،لسانیات، اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ناصرف سیاست کی جاتی ہے بلکہ پورا نظام حکومت ہی چلایا جاتا ہے۔ وطن عزیز نفرت کی بنیاد پر قائم ہوا اور ابھی تک اس میں نفرت ہی پھل پھول رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کہنے کو تو ہر طرف مسلمان ہی مسلمان ہیں مگر اسلام کا نام و نشان تک نہیں۔ وہ اسلام جس میں مکمل ضابطہ حیات ہے اور جس کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے کے پیروکار نام نہاد مسلمان اپنے رویوں سے اس امن و محبت کے دین کو باہر کے دشمن سے زیادہ نقصان پہنچا رہے۔ ابھی بھی وقت ہے ہم صحیح مسلمان بن جائیں اور آپﷺ کے بتائے ہوئے صبر و تحمل کے اصولوں پر زندگی گزاریں۔اس عظیم ہستی نے زندگی بھر دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کیں ۔ ہمیں چاہیےکہ ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر اپنے دلوں کی نفرتیں مٹا دیں اور اپنے رویے سے ثابت کرکے دنیا کو یہ کہنے پر مجبور کردیں کہ واقعی اسلام امن و سلامتی کا گہوارہ ہے۔ مگر یہ سب کرنے کیلئے ہمیں اپنی چھوٹی سوچ سے نکل کر وسیع النظر سوچنا ہوگا تبھی جاکر پاکستان دنیابھر میں خود کو سرخرو کرپائےگا۔

احمدیہ مذہب سے شدید اختلاف تھا، ہے اور ہمیشہ مرتے دم تک رہے گا۔ ہم نے بہت اچھا کیا کہ انہیں آئین کے ذریعے غیرمسلم قرار دے دیا۔ اس میں ناصرف ہماری بلکہ انکی بھی بہتری ہے لیکن اس سب کے باوجود ہماری یہ نہ صرف بطور ریاست بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے بھی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کا خاص خیال رکھیں۔ جس طرح ہم دوسرے ممالک میں مسلمان اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی اور تحفظ چاہتے اسی طرح ہمیں بھی یہ کام کرنا ہوگا کہ پاکستان میں بھی اقلیتوں کے تحفظ کو نا صرف یقینی بنائیں بلکہ انکو آئینی حقوق بھی فراہم کریں، تب جاکر کہیں ہم اپنی مسلم اقلیتوں کا مقدمہ دنیا میں لڑ پائینگے. باقی جو ہونا تھا ہوگیا، اسے ہم زبردستی بدل نہیں سکتے،ہمیں اب آگے بڑھنا ہے ۔ آخر میں اتنا کہونگا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ دعوت و تبلیغ اور امن محبت سے پھیلا ہے۔ ذرا احمقوں کی جنت سے نکل کر سوچیے گا خود بخود سب کچھ سمجھ آجائے گا۔

The post !عاطف میاں، پاکستان اور اسلام appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں