192

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس: چیف جسٹس کا واقعے کی دوبارہ انکوائری کرانے کا حکم

Mian Saqib Nisar

اسلام آباد : ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، سابق آئی جی پنجاب کلیم امام اور دیگر نے عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر غیر مشروط معافی مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پرازخود نوٹس کی سماعت کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے سابق آئی جی پنجاب سید کلیم امام پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کی اور ڈی پی او کی رپورٹ میں تضاد ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ احسن جمیل گجرسے آپ نے کیا سوال کیا؟ ایک شخص کو بچانے کے لیےغلط بیانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پولیس کے محکمے کی عزت کا پاس نہیں، آپ کی رپورٹ بد نیتی پر مبنی ہے، آپ جانتے ہیں اس کے اثرات کیا ہوں گے ؟۔

سابق آئی جی پنجاب سید کلیم امام نے کہا کہ میں آپ جناب سے رحم کی اپیل کرتا ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو با اختیار بنانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جب وزیراعلیٰ پنجاب نے بلایا توآپ نے جانے سے انکارکیوں نہ کیا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، احسن جمیل گجر اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو دوپہر دو بجے طلب کرلیا۔

یاد رہے کہ سابق آئی پنجاب پولیس سید کلیم امام کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔

The post ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس: چیف جسٹس کا واقعے کی دوبارہ انکوائری کرانے کا حکم appeared first on ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں