240

جان کیری ، جواد ظریف ملاقات پر ٹرمپ انتظامیہ آگ بگولہ

واشنگٹن : سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ایرانی ہم منصب جواد ظریف کی ملاقات پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ آگ بگولہ ہوگئی۔ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ سابق وزیرخارجہ نے امریکی پالیسی کو نقصان پہنچایا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا کہ کیری نے تہران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں پومپیو کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خارجہ جان کیری نے جو کچھ کیا وہ نامناسب اور اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا، انہیں اس نوعیت کے برتاؤ میں شریک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ امر امریکا کی اُس خارجہ پالیسی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا جس کے احکامات موجودہ صدر نے دیے ہیں۔

پومپیو کی جانب سے کیری پر یہ تنقید ٹرمپ کی اُس ٹوئٹ کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر نے کیری پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے دشمن ایرانی نظام کے ساتھ غیر قانونی ملاقاتوں کا انعقاد کیا۔

فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں جان کیری نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جنوری 2017ء میں اپنا منصب چھوڑنے کے بعد سے تین یا چار بار ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

دوسری جانب جان کیری نے ٹوئٹرپر لکھا کہ جنابِ صدر آپ کو میری اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات سے زیادہ تشویش پال مینافورٹ کے رابرٹ مُلر کے ساتھ ملنے پر ہونی چاہیے۔

The post جان کیری ، جواد ظریف ملاقات پر ٹرمپ انتظامیہ آگ بگولہ appeared first on Newsone Urdu.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں