222

پچا س لاکھ گھروں کی تعمیر کیسے ممکن ہے؟

گزشتہ روز ہی مرکز میں بر سر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے 1100 کنال اراضی پر پھیلے ہوِئے پر تعیش محلات، جن کو وزیراعظم ہاوس کا نام دیا گیا ہے، کے بارے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے۔

پاکستانی عوام کی اکثریت نے غالباً اسطرح کا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا ۔انہیں اب جا کر پتا چلا کہ ہمارے نام نہاد جمہوریت کے نام لیوا اورباریاں بدل بدل کر آنے والے روایتی سیاستدان کیوں عوام کی خدمت کے لئے مرے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس میں اسی جنت عرضی کے حصول کی خواہش ،اسی کے لئے لڑائی اور اندھے اقتدار و اختیار کا حصول ہی ان کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ جبکہ عوام کو ان کے حقوق کی لڑائی اور جمہوریت کا لالی پاپ تھما کر اسی میں خوش رکھا جاتا ہے. اگر ان کے بولنے کا زیادہ خطرہ ہو تو کوئی نہ کوئی مذہبی ،لسانی،یا علاقائی پھلجھڑی چھوڑ کر ان کو باہم دست و گریبان کر کے مصروف کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح کی دستاویزی فلمیں پنجاب ہاؤس، گورنر ہاؤسز اور دیگر سرکاری سفید ہاتھیوں پر بھی آنے والی ہونگی. یہ اچھی بات ہے کہ لوگوں کو پتا تو چلے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کس بے دردی سے ان بے حس مداریوں اور نو سر بازوں نے اپنے باپ کا مال سمجھ کر اپنے اور اپنے خاندانوں پر خرچ کیا۔ یہ تو قومی اور صوبائی سطح کی چیزیں ہیں۔ ضلع کی سطح پر یہ حال ہے کہ ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی اوز، اے سی، تحصیلدار ،سیشن جج اور مجسٹریٹ تک کے درجہ کے سرکاری اہلکار کئی کئی ایکڑ کی سرکاری رہائش گاہوں میں فروکش ہیں ۔ ان کے پاس موجود سرکاری گاڑیاں،مفت علاج معالجے کی سہولیات ،بجلی ،گیس کے فری یونٹ ، ریلوے اور قومی ائیرلائن کے ٹکٹس اورپتا نہیں کیا کیا عیاشیاں ان کو مفت میں میسر ہیں ۔

خیر ابھی نئے گھروں والے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ وطن عزیز یعنی سابقہ مغربی پاکستان اور موجودہ پورے پاکستان کی1947 ء میں آبادی صرف تین کروڑ تھی۔ جو کہ اب ماشاء اللہ 22 کروڑ کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ مگر ملک کا رقبہ وہی ہے جو کہ 1947 ء میں تھا۔اسی زمین سے اس بڑھتی ہوئی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لئے خوراک پیدا کرنا ہو گی۔ جس بے دردی سے قابل زرعی اراضی پر بے شمار ہاؤسنگ اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں. کھیتوں اور باغات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ ہم انجانے میں ایک خوفناک غذائی بحران کو دعوت دے رہے ہیں . کسی حکومت نے اس خوفناک مسئلے کے بارے سوچنے کی زحمت بھی کی؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے تو زرعی زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیز کے قیام پر پابندی لگائی جائے. اس کا م کے لئے صرف بنجر اور کاشت کے قابل نہ ہونے والی زمینوں کو استعمال میں لایا جائے۔

پوری دنیا میں شہر( ورٹیکل) عمودی طور پر پھیل رہے ہیں ۔ یعنی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر ہو رہی ہے کیونکہ یہ کم زمین گھیرتی ہیں۔ ان کے لئے کم انفراسٹرکچر تعمیر کرنا پڑتا ہے. یہ توانائی بھی کم استعمال کرتی ہیں ،اور کم ہی کچرا پیدا کرتی ہیں ۔صرف وزیراعظم ہاؤس کی 1100 سو کنال کو ہی اگر اچھے طریقے سے استعمال کر لیا جائے تو ایک پورا سمارٹ شہر بسایا جا سکتا ہے۔ اسطرح نئی وجود میں آنے والی اسکائی لائنز ہر شہر کی خوبصورتی میں اضافہ بھی کریں گی ۔ انہی جگہوں میں وزراء اور بیوروکریٹس کو رہائش گاہیں بھی دی جا سکتی ہیں ۔ کوڑھیوں کی طرح الگ تھلگ احاطوں میں قید یہ مخلوق اس طرح خلق خدا کے قریب بھی ہو جائے گی اور ان کے خود یہاں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے کم از کم شہروں کے ان حصوں میں صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو جائے گی۔ مزید ان حضرات پر سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی رقم میں بھی واضح کمی رونما ہوگی۔

اس طریقے سے حکومت اضافی زمین حاصل کئے بغیر پچاس لاکھ گھروں کا ہدف آسانی سے پورا کر سکتی ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر ہی دنیا کا واحد سیکٹر ہے جس کے چلنے سے کم وبیش ساٹھ انڈسٹریز بھی چل پڑیں گی ۔اور اس طرح لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقع بھی حاصل ہونگے۔ گھروں کی فروخت سے حکومت کو اچھی آمدنی بھی حاصل ہو پائے گی۔ کچھ لوگ پچاس لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کے حکومتی وعدے کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اگر نیت ٹھیک ہو تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ خیبر پختونخواہ میں بلین ٹری سونامی منصوبے کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا تھا اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کے منصوبے کو بھی کئی لوگوں نے ناقابل عمل قرار دیا تھا۔

The post پچا س لاکھ گھروں کی تعمیر کیسے ممکن ہے؟ appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں