229

ہیلی کاپٹر، عمران خان اور شور

اس حکومت کو بنے ہوئے ابھی بارہ دن ہوئے ہیں، لیکن میڈیا کے منکر نکیر ان کے ایک ایک منٹ کا حساب لینے کے لئے باولے ہو رہے ہیں۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی خطائیں اور جرائم نکالے جا رہے ہیں ۔

پچھلے چار یا پانچ دنوں سے ہمارے میڈیا کے نزدیک اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نو منتخب وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر کا استعمال ہے حالانکہ دو دن پہلے ہی سینٹ میں بتایا گیا کہ سابقہ سزا یافتہ اور مستقل نااہل وزیراعظم کے بچے ان کے گزشتہ دور حکومت میں انہی سرکاری ہیلی کاپٹروں اور جہازوں پر اس غریب قوم کے پیسوں سے ایک کروڑ اور بیالیس لاکھ روپے کے جھولے لے چکے ہیں ۔ انہی ہیلی کاپٹروں پر اسلام آباد سے مری بزعم خود مغل اعظم اور ان کے اہل خانہ کے لیے کھابے بھی ڈھوئے جاتے رہے ہیں ۔

سابقہ وزیر اعلیٰ پنجاب جنہوں نے اپنے پانچ سے زیادہ گھروں کو وزیراعلیٰ کیمپ آفس قرار دے کر سرکاری خرچ سے چلائے رکھا کے ماڈل ٹاون والے گھر سے جاتی عمرہ تک یہی سرکاری ہیلی کاپٹر روزانہ چنگ چی کی طرح استعمال ہوتے رہے. یہ بات ایک میڈیا اینکر نے اپنے ٹی وی شو میں بتائی ہےکہ چونکہ میرا گھر ماڈل ٹاون اور جاتی عمرہ کے بیچ میں پڑتا ہے تو اس ٹریفک کا میں خود گواہ ہوں .جب مغل اعظم نا اہلی کے غم سے نڈھال پورے ملک میں ‘مجھے کیوں نکالا ‘ کا دردناک راگ الاپتے پھر رہے تھے اس وقت موٹر وے پر ان کی دل پشوری کے لئے ان کے کانوائے پر انہی ہیلی کاپٹروں سے گل پاشی بھی کی جاتی رہی .ایک وقت تو ایسا بھی رہا کہ پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹروں سے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کی جعلی برہنہ تصاویر بنوا کر ملک کے بڑے شہروں پر پھینکوائی گئیں۔ یہ سارے کام چونکہ شرفاء کرتے رہے اس لئے ان کےتو سات خون بھی ہمیشہ معاف رہے گے۔

سینیٹ آف پاکستان میں جو اعداد و شمار دیے گئے ان کے مطابق پچھلے پانچ سے سات سالوں میں پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کی طرف سے غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے چالیس ارب روپےکے اشتہارات مختلف میڈیا ہاوسز کو دیے گئے یہ پیسہ صرف دونوں بھائیوں کی ذاتی تشہیر پر خرچ ہوا ۔اس کے علاوہ سابقہ حکمران جماعت کے ہزاروں کارکنوں کو جو کہ شہزادی مریم کے میڈیا سیل کے لئے کام کرتے تھے سرکاری خزانے سے بھاری رقوم دینے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ کچھ صحافیوں اور اینکروں نے بھی اسی مد میں مال بنایا ،یہ سب کچھ اگلے کچھ دنوں میں سامنے آنے والا ہے ۔ اب وہ شخص وزیراعظم بن گیا ہے جو کسی کو چائے بھی نہی پلاتا نہ ہی اپنی تشہیر کے لئے ایسے بے دردی سے سرکاری دھن لٹانے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے، تو میڈیا کا ایسے شخص پر چیخنا چلانا تو سمجھ آتا ہے۔ ڈھونڈ ھ ڈھونڈھ کر اس نئی آنے والی حکومت کے جرائم نکالے جا رہے ہیں، ابھی دو دن پہلے ہی ایک نیوز چینل نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پروٹوکول کی وجہ سے ایک بچی کی جان چلے جانے کی خبر چلا دی ، سوشل میڈیا پر تو سارا دن طوفان برپا رہا مگررات گئے وہ خبر جھوٹ پر مبنی ثابت ہوئی ۔

وزیر اعظم عمران خان کے لئے ملکی سلامتی کے ادارے چھ سے زیادہ سیکیورٹی الرٹ جاری کر چکے ہیں۔ پچھلے ایک ماہ میں بنی گالہ اور اسلام آباد کی مختلف جگہوں سے دو سو سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان پروٹوکول لینے سے انکاری ہیں اگر وہ براستہ سڑک اپنے گھر سے دفتر جاتے ہیں تو سیکیورٹی کی وجہ سےروٹ لگانا پڑے گا جس سے لوگوں کی تکالیف بڑھے گی۔ سیکیورٹی پر مامور اضافی نفری اور گاڑیوں کا خرچ بھی اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک چھوٹا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے سے ہو رہا ہے۔ یاد رہے پچھلے پانچ برس میں صرف حکمران خاندان کی سیکیورٹی پر ستائیس سو سے زیادہ اہلکار تعینات رہے اور اس غریب قوم کے آٹھ ارب روپے استعمال ہوئے۔ وزیراعظم روزانہ حکومتی امور نمٹا رہے ہیں، کابینہ کے اجلاس ہو رہے ہیں، سینٹ کے اجلاس ہو رہے ہیںاور وہ پارلیمنٹ میں آکر خود اظہار خیال کر رہے ہیں۔ وہ اپنے فرائض کے بارے مکمل طور پر آگاہ ہیں ۔ ایسے میں قوم کو نان ایشوز میں الجھا کر ہمارا میڈیا صرف اپنا کھایا پیا حلال کررہا ہے یا قوم کی کوئی خدمت کر رہا ہے یہ ہمارے ملکی میڈیا کے عمومی رویے سے عیاں ہے

The post ہیلی کاپٹر، عمران خان اور شور appeared first on دنیا اردو بلاگ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں