327

جھنگ :ٹی ایچ کیو ہسپتال میں بدنظمی کےذمہ دار ایم ایس ڈاکٹر صفدر کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہ ہوسکی۔

جھنگ (ابوتراب ترابی )تشدد اور غیر اخلاقی تصاویر واٹس ایپ گروپ پر شئیر کرنے والا با اثر ڈاکٹر تا حال آزاد۔تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھارہ ہزاری (جھنگ)میں تشدد کے واقعہ کی اہم انکوائری میں مبینہ بد انتظامی کے سنجیدہ انکشافات سامنے آنے کے باوجود سابق قائمقام ایم ایس اور دیگرملوث عملے کے خلاف جامع تحقیقاتی رپورٹ مرتب ہونے کے دو ماہ بعد بھی نہ صرف کوئی کارروائی نہ ہو سکی بلکہ اسی دوران مس کنڈکٹ کے ایک دوسرے واقعہ میں معطل ہو کر ضلع بد ر ہونیوالے مذکورہ ایم ایس کی مبینہ نااہلی ثابت ہوجانے اور ایڈمنسٹریشن کی اہلیت اور تجربہ نہ ہونے کے باوجوداسے دوبارہ بحال کر کے اسی سیٹ پر تعینات کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں آج کل ان کی حاضری سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ آفس لاہور میں ہے وہ قبل ازیں ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں گریڈ18کے سرجن تھے کہ ان کی ایڈیشنل ڈیوٹی پر ٹی ایچ کیو ہسپتال اٹھارہ ہزاری میں لگائی گئی بعد میں ایم پی ایچ کی ڈگری اور انتظامی تجربہ نہ ہونے کے باوجودانہیں ایم ایس کا ایڈیشنل چارج بھی دے دیا گیا جبکہ گریڈ 19کے سنیئر تجربہ کار ڈاکٹر عابد حسین کو ان کے ماتحت کر دیا گیاڈاکٹر عابد حسین اب دوبارہ ایم ایس ہیں جنہیں ایک بار پھر ہٹا کر سنگین الزامات پر ضلع بدر ہونیوالے سرجن ڈاکٹر صفدر کو ان کی جگہ دوبارہ تعینات کرنے کی اطلاع بتایا گیا ہے کہ ضلع کے ایک دوسرے اہم ہسپتال کے میڈیکل سپرینڈنٹ نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعلقات سدھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور محکمہ صحت کے حکام کو ان کی اس تعیناتی کی پروپوزل تیار کرنے کا گرین سگنل دے دیا گیا ہے ہسپتال اٹھارہ ہزاری میں ڈاکٹر صفدر کی بطور قائمقام ایم ایس تعیناتی کے دوران جہاں ہسپتال میں اقرباء پروری بد انتظامی اور بھاری فنڈز کے خرد برد کی شکایات عام ہوئیں وہاں مورخہ 15جولائی کو ہسپتال میں سپیشل برانچ اہل کار اور ایک مقامی صحافی پر تشدد اور انہیں حبس بیجا میں رکھنے کا اہم واقعہ سامنے آیا جس کا حکام بالا خاص طور پر سپیشل برانچ کے افسران نے سخت نوٹس لیا اس پر ڈی سی جھنگ نے تین اہم افسران اے ڈی سی آر سجاد احمد خان،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر شاہد سلیم اور اے سی اٹھارہ ہزاری شبیر احمد ڈوگر پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنائی جس نے تحقیقات کر کے 3،اگست کو رپورٹ مرتب کی ہی تھی کہ مورخہ15،اگست کو ڈاکٹر صفدر کو آپریشن تھیٹر کے تمام پروٹوکول نظر انداز کر کے سہولیات اور معاون طبی عملے کے بغیر ایک خاتون کا میجر آپریشن کر کے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں معطل کر کے ضلع بدر کر دیا گیا جبکہ سابقہ واقعہ کی انکوائری رپورٹ پر کارروائی مؤخر کر دی گئی جس میں بھی ڈاکٹر صفدر کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف باضابطہ کارروائی کی سفارش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر صفدر نے نہ صرف صورتحال کو مس ہینڈل کیا بلکہ پرائیویٹ ڈرائیور سمیت ماتحت سٹاف کو خود تشدد پر اکسایا انہوں نے ماتحت ڈاکٹر زکریا پر دباؤ ڈال کر تشدد میں ملوث دو ملازمین رمضان اور شہزاد کے فرضی میڈیکل بھی بغیر پولیس نقشہ مضروبی کے بنوائے حال میں تعینات ہونیوالے ڈاکٹر زکریا کو ایسا کوئی تجربہ یا اختیار نہ تھا اس نے میڈیکل میں لگائی گئی دفعات کی تشریح اور واقعہ سے بھی لاعلمی ظاہر کی رپورٹ میں ڈاکٹر صفدر کی اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا گیا کہ سی سی کیمرے خراب تھے اور واقعہ کے وقت اور اس سے قبل کی تمام فوٹیج ضائع ہو گئی ہے جس کے ذمہ دار دو کمپیوٹر آپریٹر ہیں رپورٹ میں سپیشل برانچ اہل کار کا بھی ایریا سے ٹرانسفر کرنے اور تشدد کرنیوالے ہسپتال کے ڈیلی ویجز ملازموں رمضان اور شہزاد کو فوری برطرف کرنے کی سفارش کی گئی دو ماہ گزر جانے کے باوجود محکمہ صحت نے اس رپورٹ کے کسی ایک لفظ پر بھی عمل نہیں کیا اس رپورٹ کی کاپی مصدقہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہے داریں اثناء محکمہ صحت کے بعض ذرائع نے بھی مذکورہ تمام معاملے کی تصدیق کی ہے تاہم سی ای او ہیلتھ جھنگ سے مؤقف لینے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں