157

فحاشی کیوں…..تحریر خلیل ساجن
کل سےایک وڈیوگردش کررھاکہ لاھورکے کسی منڈی میں جانور بھیجنے کےلیے رقص اور ڈانس کیے جارھے ہیں میرے خیال میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے
بلکہ اج کل تھیٹر اسٹیج ڈراموں میں بھی ڈانس اور رقص کاماحول بناکر ٹکٹوں کو فروخت کرتے ہیں اور تو اور زرا اج کل کےسیاسی جلسوں کودیکھو
مست مست طرزوں پہ رقص عام ہے اور اکثر نوجوانان پارٹی کےلیے نہیں ڈانس دیکھنے کے لیے اتےہیں کیونکہ یہ اسلامی جموریہ پاکستان ہے لیکن
اس میں اسلام اج سے پندرہ بیس سال پہلے تھا اب صرف نوٹوں میں کاغزی کاروائی میں لکھتے ہے اسلامی جموریہ پاکستان باقی ہمارے سب حرکتیں
مغرب جیسے بنتے جارھے ہیں اس کلچر کووہ لوگ زبردستی ہمارے اوپر مسلط نہیں کررھے بلکہ ہم لوگ جان بوجھ کر ان لوگوں کے ثقافت اپنارھے ہیں
اگراسی طرح اسٹیج ڈراموں شادی بیاہ سیاسی جلسوں اتاکہ جانور بھیجتے وقت یہ ڈانس اور بےھودہ رقص کا سلسلہ جاری رھاتو انے والے چندسالوں
میں ہمارے ملک کا شمار بھی فحاشی ممالک کے لسٹ تک پہنچ جائیگا
اشعار
اپنے عزت نفس کو بچاناہے
ان ماحول سے دور رہنا یے
یہ تو اسلام میں نہیں ہے سب
خلیل ساجن سب کو بتانا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں